عورت کا بیعت ہونا کیسا؟

عورت کا بیعت ہونا کیسا؟


سوال: السلام علیکم حضرت، آپ کے تصوف والے لیکچر کے بعد ایک سوال مجھے پریشان کر رہا ہے، میں نے اپنے مسائل سے نجات پانے لیے ایک شیخ کی بیعت کر لی تھی، اس میں میرے والدین اور بعد میں شوہر کی اجازت شامل نہیں۔ کیا یہ بیعت جائز ہے یا ناجائز؟ جواب: اصولی بات یہ ہے کہ بیعت کرنا فرض یا واجب نہیں۔ رسول اکرم ﷺ سے ثابت شدہ بیعت کا مقصد گناہوں سے توبہ کرنا اور دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ لیکن خواتین کا شیوخ کی مجالس میں جا کر بیٹھنا، ان کی خدمت کرنا، ان سے براہ راست گفت و شنید کرنا کبھی بھی فتنے سے خالی نہیں ہو سکتا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا؛ “جن عورتوں کے خاوند (محرم) موجود نہ ہوں ان کے پاس نہ جاؤ کیونکہ شیطان تمہاری رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے”۔ (مسند امام احمد بن حنبل 3: 309، رقم: 14364) یہ فرمان تو صحابہ کرام کے لیے تھے، آج کے پیر کسی طور بھی اس درجہ کے متقی نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا شرعاً خواتین کو چاہیے کہ وہ کتاب و سنت پر عمل کریں، اپنے والد، خاندانی بزرگ اور شوہر کی اطاعت کریں۔ شرعی رہنمائی کے لیے علماء سے مناسب طریقے کے ساتھ رجوع کریں۔ یہ بھی خیال رہے کہ ایسے صوفی اور پیر حضرات جو آپ کی رہنمائی میں قرآن و سنت کی بجائے ذاتی خیالات، من گھڑت تصوف اور غیر شرعی نظریات بیان کریں ان سے ہر صورت میں دور ہو جائیں ورنہ ایمان کی تباہی اور دنیا و آخرت میں ذلت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔ واللہ اعلم

اپنی رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *