(علامہ افتخار الحسن رضوی)
پیغمبر اسلام، خیر الانام حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ کی تعلیمات و شریعت انتہائی واضح اور فطرت انسانی کے قریب تر ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئیے اخلاص، قوت فہم اور انسان کے قلب و دماغ کا صاف ہونا ضروری ہے۔ اسلام کو اس انداز میں سمجھا جائے جس کا وہ متقاضی ہے تو اختلافی مسائل حل ہو جائیں۔ تاہم کچھ گروہ یا لوگ اسلام احکام کو خود پر نافذ کرنے کی بجائے اپنی سوچ و فکر کو اسلام اور مسلمانوں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ اختلاف و انتشار کا سبب عام بنتا ہے۔
کچھ ایسا ہی مسئلہ نبی کریم ﷺ کے “اہل بیت” میں شامل نفوس قدسیہ کا ہے۔ لوگ اپنی مرضی سے اولاد اطہار اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہم کو تو اہل بیت میں شامل سمجھتے ہیں تاہم دیگر ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اہل بیت سے خارج قرار دیتے ہیں۔ یہ تعصب کی وجہ سے ہے، متعصب ذہن و فکر اور نظر والے کو اپنے سوا سب غلط معلوم و محسوس ہوتا ہے۔ ہم اپنے اکابرین اہل سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اس پر عرض کرتے ہیں کیونکہ دیگر مذاہب و مسالک والوں کے اپنے افکار و عقائد ہیں، ان پر ہم مسلط نہیں ہو سکتے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اہل بیت کے اس مسئلہ پر فرماتے ہیں؛
اہل بیت کے معنی ہیں گھر والے۔اہل بیت رسول چندمعنی میں آتا ہے: (۱)جن پر زکوۃ لینا حرام ہے یعنی بنی ہاشم عباس،علی، جعفر،عقیل،حارث کی اولاد(۲)حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں پیدا ہونے والے یعنی اولاد(۳)حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں رہنے والے جیسے ازواج پاک(۴)حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں آنے جانے والے جیسے حضرت زید ابن حارثہ اور جیسے اسامہ ابن زید۔ یاد رہے کہ بیویوں کا اہل بیت ہونا قرآنی آیات سے ثابت ہے،رب نے حضرت سارہ کو جناب ابراہیم کی اہل بیت فرمایا”رَحْمَتُ اللہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمْ اَہۡلَ الْبَیۡتِ”حضرت صفورہ کو جناب موسیٰ علیہ السلام کا اہل فرمایا “اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امْکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسْتُ نَارًا”حضرت عائشہ صدیقہ کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اہل بیت فرمایا”وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیۡنَ مَقٰعِدَ لِلْقِتَالِ”اور اولاد کا اہل بیت ہونا حدیث سے ثابت ہے،حضور نے جناب فاطمہ حسنین کریمین اور جناب علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا اللھم ھؤلاء اھل بیتی خدایا یہ لوگ بھی میرے اہل بیت ہیں لہذا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج،اولاد سب ہی اہل بیت ہے رضی اللہ عنہم۔خلاصہ یہ ہے کہ بیت تین قسم کے ہیں: بیت نسب،بیت سکن،بیت ولادت اس لیے اہل بیت بھی تین قسم کے ہیں۔
(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، باب مناقب اہل بیت النبی ﷺ، جلد ہشتم)
یہاں کچھ وضاحت درکار ہے؛
جب بیت تین قسم کے ہیں تو اہل بیت بھی تین قسم کے ہوں گے؛
- اہل بیت نسب: اس سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جو باپ کی طرف سے ہوتے ہیں، مثلاً دادا، چچا ، پھوپھی وغیرہ۔
- اہل بیت سکن: اس سے مراد وہ افراد ہیں جو گھر میں ساکن ہوں، اس میں بچوں کے ساتھ بیوی بھی شامل ہوتے ہے۔ اگر ایک بیوی تو وہ اہل بیت سکن اور اگر ایک سے زیادہ بیویاں تو وہ سب بھی اہل بیت سکن میں شامل ہوئیں۔
- اہل بیت ولادت: اس سے مراد اولاد بیٹے بیٹیوں سمیت شامل ہیں۔
مذکورہ وضاحت سے یہ بات تو مکمل واضح ہو گئی کہ کون کون اہل بیت میں شامل ہوتا ہے۔ یہ کیسی جہالت ہے کہ ایک شخص اولاد کو اہل بیت میں تسلیم کرتا ہے لیکن بیویوں کو اہل بیت سے خارج سمجھتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سب اولاد اطہار ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبرٰی رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے پیدا ہوئی۔ ایک شہزادے جناب ابراہیم رضی اللہ عنہ ام المؤمنین سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے پیدا ہوئے۔ تو جس طرح سیدہ فاطمہ و دیگر اولاد اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین اولاد اور اہل بیت میں شامل ہیں اسی طرح وہ بھی پیارے آقا ﷺ کی اولاد ہیں، اسی اعتبار سے ان کی والدہ ماجدہ سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا بحیثیت سرکار کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ کے اہل بیت میں شامل ہوئیں۔ تو سیدہ خدیجہ و ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہن جس دلیل و اعتبار سے شامل اہل بیت ہوئیں اسی دلیل و اعتبار سے دیگر ازاواج مطہرات بھی اہل بیت میں شامل ہیں۔ صلی اللہ علی النبی الامی والہ واصحابہ وبارک وسلم
اب ایک اور وضاحت یہ کہ کچھ لوگ آیت تطہیر کو فقط سیدہ فاطمہ اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم کے لئیے قبول کرتے ہیں جبکہ امہات المؤمنین کو اس سے خارج سمجھتے ہیں۔ جس نبی کی برکت سے یہ اولاد دنیا میں تشریف لائی اس نبی ﷺ کی دیگر ازواج جو کہ رسول کریم ﷺ کی مرضی ومحبت سے آپ کے نکاح میں تشریف لائیں ان پر اعتراض کرنا، انہیں خارجِِ اہل بیت سمجھنا یا ان پر تمہت لگانا کہاں کا انصاف ہوا؟ کیا یہ رسول کریم ، مہربان نبی ﷺ کو اذیت و دکھ پہنچانے کے مترادف نہیں؟
حق تعالٰی جل شانہ اپنے حبیب پاک ﷺ کے جملہ اہل بیت کو تمام عیوب سے پاک ہونے کی شہادت عطا فرما رہا ہے؛
انَّمَا یْرِیدْ الله لِیْذہبَ عَنکْمْ الرِّجسَ اَهلَ البَیتِ وَیْطَهِّرَکْم تَطیهِرًا(الاحزاب، 33 : 33)
ترجمہ: اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔
جو لوگ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یا دیگر ازواج مطہرات کو اہل بیت سے باہر سمجھتے یا کہتے ہیں وہ تعصب کی عینک پہنے ہوئے ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہئیے کہ حق تعالٰی نے اعلان فرما دیا کہ اس نے اپنے حبیب ﷺ کی ازواج و اولاد کو پاک فرما کر اعلان فرما دیا کہ وہ جسمانی و روحانی اعتبار سے مکمل پاک ہیں۔ اس میں اولاد یا ایک بیٹی یا ایک بیوی نہیں بلکہ مطلق اہل بیت کو یہ شرف و عزت عطا فرمایا۔
متعصب سوچ و رویہ رکھنے والے دو قسم کے ہیں، کچھ اولاد رسول ﷺ کی محبت کا دعوٰی کرتے ہوئے حد سے گزر کر دیگر اصحاب و ازواج رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نہ صرف گستاخ ہو گئے ہیں بلکہ حد کفر کو پہنچے ہوئے ہیں اور کچھ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نام لے کر تحفظ ناموس صحابہ پر سیاست چمکاتے ہوئے اولاد رسول کے بغض میں مریض ہیں۔ اسلام متوازن و معتدل مزاج ہے، یہ اپنے ماننے والوں سے بھی یہی تقاضا کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئیے امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے منقول یہ فرمان ایمان کی سلامتی کا ذریعہ بن سکتا ہے؛
مولائے کائنات سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ آپ (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے ایک مشابہت ہے۔ ان سے یہودیوں نے بغض کیا تھا یہاں تک کہ ان کی والدہ ماجدہ (سیدہ مریم سلام اللہ علیہا) پر زنا کی تہمت لگائی اور نصاریٰ ان کی محبت میں ایسے حد سے گزرے کہ ان کی خدائی کے عقیدہ قائم کر لیا۔ ہوشیار! میرے حق میں بھی دو گروہ ہلاک ہوں گے۔ ’’ایک زیادہ محبت کرنے والا جو مجھے میرے مرتبے سے بڑھائے گا اور حد سے تجاوز کرے گا۔ دوسرا بغض رکھنے والا جو عداوت میں مجھ پر بہتان باندھے گا۔
(مسند احمد بن حنبل 2 : 167، رقم 1376)
اسی سے ملتی جلتی روایت معتبر شیعہ کتاب “نہج البلاغہ” میں سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا؛ ’’میرے معاملہ میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت کرنے والا، حد سے بڑھانے والا۔ وہ محبت اس کو غیر حق کی طرف لے جائے گی۔ دوسرا بغض رکھنے والا حد سے کم کرنے والا، وہ بغض اس کو خلاف حق کی طرف لے جائے گا اور سب سے بہتر حال میرے معاملہ میں میانہ رو جماعت کا ہے پس اس میانہ رو جماعت کو اپنے لئے ضروری سمجھو اور (بڑی جماعت) سواد اعظم کے ساتھ وابستہ رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ اسی جماعت پر ہے اور خبردار! اس جماعت سے الگ نہ ہونا کیونکہ جو شخص جماعت سے الگ ہوگا وہ اسی طرح شیطان کا شکار ہوگا جس طرح ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری بھیڑیئے کا شکار ہوتی ہے۔
(ترجمہ و شرح نہج البلاغہ جلد اول، 383)
اہل بیت کے تصور سے واقف ہونے، اللہ تعالٰی کے ان کے حق میں طہارت کے فرمان پڑھنے اور قول علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ پڑھنے کے بعد یہ معاملہ سمجھنا آسان ہو گیا ہے کہ اسلام اعتدال پسند فرماتا ہے۔ اس لئیے تمام ازواج مطہرات شامل اہل بیت ہیں۔ ان سب نفوس قدسیہ کا مکمل احترام کرنا ضروری ہے۔ مذکورہ بالا روایت میں آپ نے پڑھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سواد اعظم اور جماعت کے ساتھ رہنے کا حکم فرما رہے ہیں تو امت کے جید علماء، اکابرین و مشائخ ہی سواد اعظم ہیں اور ان سب کے نزدیک تمام ازواج شامل اہل بیت، سب پاک و صاف، ہمارے لئیے محترم و مکرم اور وسیلہ نجات ہیں۔
صلی اللہ علی النبی الامی والہ واصحابہ وبارک وسلم


اپنی رائے دیں