سوال: السلام علیکم، مقدس أوراق جیسے قرآنِ پاک، حدیث شریف یا دیگر اسلامی کتابیں جو پرانی ہو جائیں اور ان کے أوراق پھٹنا شروع جائیں، ان کا شرعی حکم کیا ہے؟ دفن کریں گے یا جلا سکتے ہیں؟
جواب: یہ اللہ تعالٰی کا خاص احسان اور عطا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اس نے احترام کا جذبہ پیدا کیا ہے۔ ہم اللہ کے نبیوں، رسولوں علیہم السلام ، أصحاب، اہل بیت اولیاء، اکابرین رضی اللہ عنہم اجمعین اور دینی کتابوں کا احترام کرتے ہیں۔ ہمارے دل میں یہ جذبہ اور فکر موجود ہے کہ بے حرمتی نہ ہو، اسی دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو کتاب اللہ کا “سرہانہ” بنا لیتے ہیں، اچھال کر پھینک دیتے ہیں اور بعض بد بخت تو اس کتاب کو ننگی ٹانگوں پر بھی رکھ لیتے ہیں۔ تاہم اگر غلطی سے یا انجانے میں کسی سے بے ادبی ہو جائے تو اس پر کچھ سزا نہیں ہے ۔ ’ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛
” اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا اورنسیان کو معاف کردیا ہے اور اس گناہ سے بھی معافی عطاء فرمادی ہے جس میں زبردستی مبتلا کیا گیا ہو”۔
(رواہ ابن ماجہ، والبیہقی، باب ثواب ہذہ الامۃ، مشکوۃ، ص:۵۸۴:قدیمی)
جمع و تدوین کتاب مقدس قرآن کریم کے مراحل میں ایک بار اس نوعیت کا مسئلہ پیش آیا تھا، ابن شہاب بیان کرتے ہیں؛
أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَهُ أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَي عُثْمَانَ وَکَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّاْمِ فِي فَتْحِ إِرْمِينِيَةَ وَأَذْرَبِيجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةَ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَائَةِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ لِعُثْمَانَ يَا أَمِيرَ الْمُوْمِنِينَ أَدْرِکْ هَذِهِ الاُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْکِتَابِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَي فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَي حَفْصَةَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْکِ فَأَرْسَلَتْ بِهَا حَفْصَةُ إِلَي عُثْمَانَ فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اﷲِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيينَ الثَّلَاثَةِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْئٍ مِنْ الْقُرْآنِ فَاکْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا حَتَّي إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَي حَفْصَةَ وَأَرْسَلَ إِلَي کُلِّ اُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا وَأَمَرَ بِمَا سِوَاهُ مِنْ الْقُرْآنِ فِي کُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ فَقَدْتُ آيَةً مِن الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ قَدْ کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اﷲِ ٍصلیٰ الله عليه وآله وسلم يَقْرَاُ بِهَا فَالْتَمَسْنَهَا فَوَجَدْنَهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِي {مِنَ الْمُوْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَهَدُوا اﷲَ عَلَيْهِ} [الاحزاب ، 33: 23] فَأَلْحَقْنَهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ.
بخاري، الصحيح، 4: 1908، رقم: 4702، دار ابن کثير اليمامه بيروت
ترمذي، السنن، 5: 284، رقم: 3104، دار احياء التراث العربي بيروت
أبي يعلي، المسند، 1: 93، رقم: 92، دار المامون للتراث دمشق
ابن حبان، الصحيح، 10: 341، رقم: 4506، موسسه الرسالة بيروت
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہيں بتايا کہ حضرت حذيفہ بن اليمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اہل شام اور اہل اعراق کي معيت ميں آرمينيہ اور آذر بائيجان کي فتوحات حاصل کر رہے تھے تو امير المومنين حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کي خدمت ميں حاضر ہوئے کيونکہ انہيں شاميوں اور عراقيوں کي قراءت ميں اختلاف نے تڑپا ديا تھا۔ چنانچہ حضرت حذيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض گزار ہوئے: اے امير المومنين! يہودونصاري کي طرح کتاب الٰہي ميں اختلاف کرنے سے پہلے اس امت کي دستگيري فرمائيے۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حفصہ رضي اﷲ عنہا کو پيغام بھيجا کہ قرآن کريم کا جو اصل نسخہ آپ کے پاس محفوظ ہے وہ ہميں عنايت فرمائيے۔ ہم اسے واپس کرديں گے تو حضرت حفصہ رضي اﷲ عنہا نے وہ نسخہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھيج ديا۔ سو انہوں نے حضرت زيد بن ثابت، حضرت عبداﷲ بن زبير، حضرت سعدبن العاص اور حضرت عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام رضي اﷲ عنہم کو حکم ديا تو انہوں نے اس کي نقليں کيں۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آخر الذکر تينوں قريشي حضرات سے فرمايا کہ جب تمہارے اور زيد بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درميان کسي لفظ ميں اختلاف واقع ہو تو اسے قريش کي زبان ميں لکھنا کيونکہ قرآن مجيد کا نزول ان کي زبان ميں ہواہے۔ چنانچہ انہوں نے ايسا ہي کيا اور اصل نسخہ حضرت حفصہ رضي اﷲ عنہا کو واپس کر ديا۔پھر نقل شدہ نسخوں سے ايک ايک نسخہ ہر علاقے ميں بھيج ديا گيا حکم ديا کہ ان کے خلاف جو کسي کے پاس قرآن کريم کا نسخہ ہو ، اسے جلا ديا جائے ۔ابن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خارجہ بن زيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتايا اور انہوں نے حضرت زيد بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ قرآن کريم کو جمع کرتے وقت مجھے سورۃ الاحزاب کي ايک آيت نہيں مل رہي تھي حالانکہ وہ ميں نے رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کي زبان مبارک سے سني تھي۔ جب ہم نے اسے تلاش کيا تو حضرت خزيمہ بن ثابت انصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ملي يعني: مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اﷲَ عَلَيهِ (الاحزاب33: 23) تو ہم نے جمع کردہ نسخہ کے اندر اس کي سورت کے مقام پر اسے لکھ ديا‘‘۔
اس حدیث کے بعد فقہائے اسلام نے اس مسئلہ پر اپنے أدوار کے مطابق مختلف کلام فرمایا ہے۔ تاہم علامہ شامی علیہ الرحمہ ان تمام أبحاث کا نچوڑ اور عرق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے؛
”والدفن أحسن کما فی الأنبیاء و الأولیاء إذا ماتوا، و کذا جمیع الکتب إذا بلیت و خرجت عن الإنتفاع بھا اھ: یعنی أن الدفن لیس فیہ إخلال بالتعظیم، لأن أفضل الناس یدفنون، و فی الذخیرۃ: المصحف إذا صار خلقاً و تعذر القراءۃ منہ لا یحرق بالنار، إلیہ أشار محمد و بہ نأخذ، ولا یکرہ دفنہ، و ینبغی أن یلف بخرقۃ طاھرۃ و یلحد لہ لأنہ لو شق و دفن یحتاج إلی إھالۃ التراب علیہ و فی ذٰلک نوع تحقیر إلا إذا جعل فوقہ سقف وإن شاء غسلہ بالماء أو وضعہ فی موضع طاھر لا تصل إلیہ ید محدث و لا غبار و لا قذر تعظیماً لکلام اللہ عزوجل اھ
“ ان مقدس اوراق کو دفن کرنا زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ انبیاء اور اولیاء کو انتقال کے بعد دفن کرنا زیادہ بہتر ہے اور اسی طرح تمام کتابوں کا حکم ہے، جب وہ بوسیدہ ہو جائیں اور ان سے نفع حاصل نہ کیا جا سکے ۔ یعنی ان کتابوں کو دفن کرنے میں ان کی تعظیم میں کوئی خلل نہیں ہوتا، اس وجہ سے کہ افضل لوگوں کو بھی دفن ہی کیا جاتا ہےاور ذخیرہ میں ہے کہ مصحف جب قابل استعمال نہ رہے اور اس سے پڑھنا متعذر ہو جائے تو اس کو آگ سے نہ جلایا جائے، اسی کی طرف امام محمد علیہ الرحمہ نے اشارہ کیا ہے اور اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں، اس کو دفن کرنا مکروہ نہیں ہے، البتہ مناسب یہ ہے کہ اس کو ایک پاک کپڑے میں لپیٹا جائے اور اس کے لیے لحد بنائی جائے، اس وجہ سے کہ اگر اس کے لیے شق(سیدھی قبر) بنائی گئی اور اس میں دفن کیا گیا تو اس پر مٹی ڈالنے کی طرف بھی محتاجی ہو گی اور اس میں ایک قسم کی تحقیر ہے، الّا یہ کہ اس کے اوپر چھت بنا دی جائے اور اگر چاہے تو اس کو پانی سے دھو دے یا اس کو کسی ایسی پاک جگہ پر رکھے، جہاں بے وضو و بے غسل کا ہاتھ، گرد و غبار اور گندگی نہ پہنچے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی تعظیم کی وجہ سے ہے۔
(الدر المختار مع ردالمحتار،جلد 09،ص696، مطبوعہ پشاور)
پندرہویں صدی کے مجدد امام احمد رضا خان قادری برکاتی علیہ الرحمہ بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں تاہم ادب و احترام کے تعلق سے مزید فرماتے ہیں؛
”ادب و اجلال جہاں تک ممکن ہو بہتر ہے۔ فتح القدیر میں ہے:
”کل ما کان فی الأدب و الإجلال کان حسناً“ہر وہ کام جو ادب و احترام میں داخل ہو وہ اچھا ہے ۔ “
(فتاوی رضویہ، جلد 23،ص405، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
کتبہ:علامہ افتخار الحسن رضوی


اپنی رائے دیں